Blog Detail

کیا بااختیار صرف مرد کو ہونا چاہیے؟

66 Views 0 Comment

اگر ہم بات کریں عورت ذات کے بارے میں تو ویسے تو عورت  چار حرف ادا کرنے میں بہت آسان  ہے لیکن اسکی ذندگی اتنی ہی مشکلات میں گزرتی  اور صرف مشکل ہی نہیں بلکہ بہت مشکل بنا دی گئی ہے کیوں کی عورت ذات پیدا ہوتے ہی اسے گھر کے کام سکھانے اور کرنے کا ٹھیکہ لگا دییا جاتا ہے اور ہنستی کھیلتی پری جیسی پیاری لڑکی کو ان کاموں میں لگا دیا جاتا ہے۔
اور دیکھتے دیکتھے اس کے تھوڑے سے خوبصورت بچپن کو گھر کی چار دیواری میں قید کردیا جاتا ہے  کیوں کہ ہمارے ہاں تو یہ مشہور ہے اور  اسے ہماری ثقافت سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی کو پیدا ہوتے ہیں گھر کے کاموں میں لگا دییا جاتا ہے کیوں وہ اسی کام ک لیے ہی تو پیدا ہوتی ہے۔ 
اور اگرہم بات کریں تو بچپن ہی سے اسکی گردن  میں پھانسی کا پھندا لگا  کر یہ کہتے ہوئے جھجہک محسوس نہین کرتے کہ اب اسکی رسی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ 

تو بات کا اغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ پہلا امتحان اسکا بیٹی کی شکل میں لیاجاتا ہے کہ اسکو گھر کے کاموں میں لگا کر پڑھائی جیسی نعمت سے دور رکھ کر چولہاچلانے میں لگا  کر اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔  کیوں کے اگر وہ پڑھ لکھ لے گی تو شاید وہ گھر کے کام نا کرے اور بس تعلیم کے شعبے میں ہی لگی رہے گی۔  فرض کرواگر اسنے تعلیم حاصل کر بھی لی تویہ کہا جاتا ہے کہ بس یی ٹیچر ہی بن جائے کیوں کے اسی کو ہمارے معاشرے میں ایک معذب کام سمجھا جاتا ہے اور گھر والے تو کم باہر اور قریبی لوگو ں مسئلے شروع ہوجاتے ہیں۔  اور یہ بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے اگر وہ اپنی ذندگی کا فیصلہ خود لینا چاہے۔ 
پھر اگلی باری ہوتی ہے اسکے شادی کرنے کی کیوں کے اب وہ جوان ہوچکی ہوتی ہے اور لوگ اسے ادھر اُدھر بھیجنے میں لگ جاتے ہیں امی اپنے رشتہ داروں میں کرنے کی خواہشمند ہوتی اور باپ اپنے جیسوں کی طرف اور یہ بلکل بھی نہیں سوچتے کے ایک بار لڑکی سے بھی پوچھ لیا جائے کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسکی مرضی معنی بھی نہیں رکھتی کیوں کہ یہ توعورت ذات ہے  اپنے فیصلے کیسے کریگی  یہ تو کمسن ہے اسے عقل کہاں  اور یہیں باتیں کہ کرٹال دیا جاتاہے۔ 
جب کہ انکو  ایک ہی بات کرنا آتی ہے کہ بس ہم نے یہ اپنے بال تو دھوپ میں سفید نہیں کیئے 
پھر اسی طرح اسے رخصت کرواکے اسے اسی جگہ بھیج دیا جاتا ہے نا تو عورت کی قدر ہوتی ہے نہ اسکی کوئی بات سنی جاتی ہے۔ 
پھر ایک اور امتحان شروع وہوجاتا ہے ایک ننھی سی پری کا ایک بیوع کی صورت میں اور یہ امتحان پھر مرنے تک چلتا رہتا ہے۔ 
کیوں کی اسکی قربانیاں شروع ہوجاتی ہیں ایک اچھی اور باکمال بیوی بننے  لگ جاتی اور ملتا کچھ بھی نہیں ہے اور مرد کی مرضی  کے مطابق اسے بن سنور کے رہنا پڑتا ہے۔ 
اسکی اگر اجازت ہو تو بات کرنے ہے اگر نہ ہو تو سانس لینا بھی جائز نہیں۔ 
کیا ہمارا معاشرہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ دونوں کہ اتنی اجازت دی جائے کے ایک عورتاپنے اتنا فیصلہ تو کر سکے کہ اسکو کونسی چیز اپنے لیے پسند کرنی ہے۔کیوں کہ نو مہینے میں جس بچے کو اسنے اپنی جسم میں رکھا اسے اپنی مرضی کی تربیت دے سکے کیا  ہمارا معاشرہ اسے اتنی بھی اجازت نہیں دیتا کہ اسکی تربیت  اپنی مرضی سے کرے کیامعاشرے کی سننا ضروری ہے؟ کیا عورت اتنی بھی بااختیار نہیں ہوسکتی؟ 
پیدائش سے قبر تک اسکی ذندگی کو زنجیر میں باندھے رہنے کا کیا مقصد کیوں کہ وہ کہیتے ہیں نہ کہ ایک عورت کو پڑھانے پورے معاشرے کو پڑھانے کے برابر ہے۔ 

ؑعبدالرحمن 
سندھ مدرستہ اسلام یونیورسٹی کراچی 





 

Comments

Leave your thought